نیویارک ٹائمز نے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر مائیکرو سافٹ اور اوپن اے آئی کیخلاف مقدمہ دائر کردیا

امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز نے چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی اور مائیکرو سافٹ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

نیویارک  ٹائمز کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے اپنے جنریٹیو آرٹی فیشل انٹیلی (اے آئی) اور لارج لینگوئج ماڈل سسٹمز کو تربیت دینے کے لیے اخبارکے مواد کو استعمال کیا ہے۔

کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کے اس مقدمے کو نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں دائر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دونوں کمپنیوں نے اپنے سسٹمز بنانے کے لیے متعدد ذرائع سے اخبار کے ڈیٹا کو کاپی کیا۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے نیویارک ٹائمز کے مواد پر خصوصی زور دیا اور اخبار کی صحافت پر کی جانے والی سرمایہ کاری سے مفت فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تاکہ وہ بلا اجازت یا معاوضے کے اپنی پراڈکٹس تیار کرسکیں۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ کاپی رائٹس کے تحت محفوظ مضامین، کالم، ریویوز، ہاؤ ٹو گائیڈز اور دیگر کو غیر قانونی طور پر استعمال کرکے اے آئی پراڈکٹس کو تیار کیا گیا جس سے اخبار کی سروس فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب اوپن اے آئی کے خلاف اس طرح کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ستمبر میں ایک درجن سے زائد مصنفین نے بھی کمپنی کے خلاف ان کی تحریروں کے مبینہ استعمال پر مقدمہ دائر کیا تھا۔

اے آئی چیٹ بوٹس کے لارج لینگوئج ماڈلز کو تربیت کے لیے کافی ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے جو عام طور پر انٹرنیٹ سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔

اوپن اے آئی کے خلاف اب تک کاپی رائٹ مواد کو استعمال کرنے کے حوالے سے متعدد مقدمات دائر ہوچکے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ مقدمہ اس وقت دائر کیا گیا جب دونوں کمپنیوں سے اخبار کے مواد کو استعمال کرنے کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

اخبار نے دونوں کمپنیوں سے کسی ہرجانے کا مطالبہ نہیں کیا مگر یہ ضرور کہا کہ اوپن اے آئی کی قدر 80 ارب ڈالرز ہے جبکہ مائیکرو سافٹ 2800 ارب ڈالرز کی مالک کمپنی ہے اور یہ دونوں کمپنیاں اخبار کو ہونے والے اربوں ڈالرز کے نقصان کی ذمہ دار ہیں۔

مقدمے میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں کمپنیاں ایسے تمام چیٹ بوٹ ماڈلز اور ٹریننگ ڈیٹا کو ختم کر دیں جن کے لیے اخبار کے مواد کو استعمال کیا گیا ہے۔

مائیکرو سافٹ نے نیویارک ٹائمز کے مقدمے پر اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب اوپن اے آئی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تمام اداروں اور مصنفین کے کاپی رائٹ مواد کا احترام کرتے ہیں، ہماری نیویارک ٹائمز سے جاری بات چیت اب تک تعمیری رہی، تو ہم اس نئی پیشرفت پر حیران اور مایوس ہوئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.