کرسمس کے موقع پر حضرت عیسٰیؑ کی جائے پیدائش بیت لحم سوگ میں کیوں ہے

دنیا بھر کے مسیحی آج  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش منا رہے ہیں لیکن  فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم ‘جوکہ خوشیوں اور  روشنی سے بھرپور کرسمس منانے کے لیے مشہور ہے’،  میں اس کرسمس کے موقع پر  روایت سے ہٹ کر ماحول ہے۔

غزہ میں جانی نقصانات پر گزشتہ ماہ ہی بیت لحم کی میونسپلٹی نے کرسمس کی تقریبات منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

بیت لحم میونسپلٹی کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کے جانی نقصان کے سوگ میں تقریبات منسوخ کی جارہی ہیں، اس مرتبہ کرسمس روایتی سجاوٹ، روشنیوں اور کرسمس ٹری کے بغیر سادگی سے منائی جائے گی اور صرف دعائیہ و مذہبی تقریبات ہوں گی۔

کرسمس پر غزہ میں جنگ کے متاثرین کے لیے دعائیہ اجتماعات کا بھی اعلان کیا گیا اور بیت لحم میونسپلٹی کے عملے نے مختلف علاقوں میں پہلے سے کی گئی سجاوٹوں کو بھی ہٹادیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق صدیوں سے بیت لحم  میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے، ہر سال  بیت لحم کے چرچ آف نیٹی ویٹی کے باہر مسیحی زائرین اور سیاحوں کا ہجوم ہوتا ہے جو کندھے سےکندھا جوڑے بینڈ بجاتے اور گیت گاتے نظر آتے ہیں تاہم اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں اور پورا علاقہ سوگ کی کیفیت میں دکھائی دیتا ہے، نہ تو برقی قمقمے روشن کیے گئے ہیں اور نہ ہی روایتی طور پر جگہ جگہ کرسمس ٹری  سجائے گئے ہیں۔

کرسمس کے موقع پر  بیت لحم میونسپلٹی نے غزہ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بیت لحم کے مرکزی چوک پر ایک آرٹ ورک کا انعقاد کیا جہاں عام طور پر ایک سجا ہوا بڑا کرسمس ٹری  موجود ہوتا ہے۔

آرٹ ورک میں غزہ کی تباہی اور ملبے کو دکھایا گیا اور غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش صورتحال کی عکاسی کی گئی۔

اس موقع پر فلسطینی وزیر برائے سیاحت کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کرسمس منارہی ہے سوائے بیت لحم کے، یہاں اس بار الگ طریقے سے کرسمس  منا کر دنیا کو پیغام دیا جارہا ہے کہ فلسطینی عوام مشکل میں ہیں، بیت لحم مشکل میں ہے، بیت لحم ملبے پر کرسمس منا رہا ہے۔

بیت لحم کے میئر کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے جبری بے دخل کرکے اسرائیلی  اپنی مذہبی تعلیمات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی  جارحیت کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

بیت المقدس (یروشلم) میں گرجا گھروں کے سربراہان نے اپیل کی ہے کہ کرسمس کے دوران غیر ضروری تقریبات سے گریز کیا جائے،  پادری اور  پیروکار کرسمس کے روحانی مفہوم پر توجہ مرکوز کریں اور پیاری مقدس سرزمین میں دیر پا امن کے لیے دعا کریں۔

غزہ  میں اسرائیلی حملوں سے 3 گرجا گھر تباہ ہوگئے

خیال رہے کہ غزہ پر جاری  79 روزہ جارحیت کے دوران اسرائیل اب تک 3 گرجا گھروں  کو تباہ کرچکا ہے۔

چند روز قبل اسرائیلی فوج کے نشانہ بازوں نے گرجا گھر میں پناہ لی ہوئی دو  مسیحی خواتین کو قتل کردیا تھا۔

واقعے پر کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ سے مسلسل سنگین اور  دردناک خبریں آرہی ہیں، نہتے شہریوں کو  بموں، گولیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کے اندر بھی حملے ہو رہے ہیں، اسنائپرز نے چرچ میں خاتون اور اس کی بیٹی کو مارا، دیگر کو زخمی کیا، کچھ کہتے ہیں یہ دہشت گردی ہے، یہ جنگ ہے، ہاں یہ دہشت گردی ہے، خدا جنگ روکتا ہے، کمانیں اور نیزے توڑتا ہے، آئیے خدا سے امن کی دعا کریں۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین میں اس وقت 50 ہزار سے زائد مسیحی  آباد ہیں ، 1300 مسیحی  غزہ میں بھی رہتے ہیں جب کہ مسیحی فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ممالک میں بھی آباد ہے۔

واضح رہے کہ  اسرائیلی فورسز کی غزہ میں کارروائیوں کے دوران اب تک 20 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 52 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، شہدا میں 8 ہزار سے زائد بچے اور 6 ہزار  سے  زائد خواتین شامل ہیں۔

78 روز کے دوران 310 طبی عملےکے ارکان اور 100 صحافی شہید ہوچکے ہیں جب کہ سول ڈیفنس کے 35 اہلکار  بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.