سپریم کورٹ کے ججوں کی بیویوں کا جسمانی تلاشی سے استثنیٰ؛ سپریم کورٹ نےاصل حقائق افشا کر دیئے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیکرٹری ایوی ایشن اور ڈائیرکٹر جنرل ایوی ایشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ  ججوں کی بیویوں کو بیرون ملک روانگی کے وقت جسمانی تلاشی سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے ڈی جی ایوی ایشن کا جو حکمنامہ جاری ہونے کے فوراً بعد وائرل ہو گیا اس کی اصل تناظر کی وضاحت کرنے کے لئے سپریم کورٹ کی رجسٹرار کے 21 ستمبر 2023 کو لکھے مکتوب کو بھی سامنے لائیں تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔

آج 18 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پبلک ریلیشنز آفیسر  کی جانب سے سیکرٹری ہوابازی سیف انجم اور ڈی جی ہوابازی میجر جنرل آصف جاہ شاد کے نام لکھے گئے خط میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے 21 ستمبر کو ایک خط لکھ کر ایوی ایشن حکام کی توجہ ایک تضاد کی طرف دلوائی تھی کہ سابق ججوں کی بیگمات کو تو بیرون ملک روانگی کے وقت جسمانی تلاشی سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن حاضر سروس ججوں کی بیویوں کو بیرون ملک جانے کے لئے جسمانی تلاشی کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

ججوں کی بیویوں کے جسمانی تلاشی سے استثنا کا ضابطہ سپریم کورٹ نے نہیں بنوایا تھا نہ ہی اب سپریم کورٹ نے کسی استثنیٰ کا مطالبہ کیا تھا، رجسٹرار کی جانب سے سول ایوی ایشن حکام کی پالیسی میں ایک تضاد کی محض نشان دہی کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ایوی ایشن کے حکام کو لکھا گیا ہے کہ آپ نے رجسٹرار کے خط کے بعد جو مکتوب جاری کیا اس میں اس تضاد کو ختم کرنے کی کوئی وضاحت  نہیں کی گئی تھی۔ نہ ہی اے ایس ایف نہ ہی حکومتِ پاکستان کو حفاظتی انتظامات کی خلاف ورزی کی کوئی فکر ہے۔

سپریم کورٹ کے خط میں اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی بیوی کے ساتھ 12 اکتوبر کو چھٹیوں پر ملک سے باہر  ترکیہ گئے تو ان کے جانے کے فوراً بعد سول ایوی ایشن کا مکتوب (جس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی بیویوں کو جسمانی تلاشی سے استثنیٰ عطا کرنے کا حکم تھا) حیرت انگیز طور پر میڈیا تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ تحقیقات کے بعد جو حقیقت ِ حال سامنے آئی وہ  یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ نے  16 دسمبر کو ترکی روانگی کے وقت کسی قسم کا پروٹوکول یا استثنی نہیں لیا ۔ چیف جسٹس فائز عیسی نے ائیر پورٹ پر لگژری لیموزین پر جہاز تک جانے پر انکار کیا اور وی پی لاوئج کی سہولت لینے سے بھی انکار کیا تھ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  کی اہلیہ مسز سرینا عیسیٰ نے اے ایس ایف کے خواتین کےلئے مخصوص کمرے جاکر کے تمام عام مسافر خواتین کی طرح تلاشی دی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ایوی ایشن کے سیکرٹری اور ڈی جی کو آج بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ حقائق یہ ہیں کہ:

1۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ جو مکتوب 66 دن پہلے لکھا گیا تھا وہ حسنِ اتفاق سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی پاکستان سے روانگی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

2۔ اہلِ خانہ کے لئے جسمانی تلاشی سے استثنیٰ کے کارڈ اب تک موصول نہیں ہوئے۔

3۔  پاکستان سے 16 دسمبر 2023 کو روانگی کے وقت  مِسز عیسیٰ خود اے ایس ایف کے خواتین کے لئے مخصوص کمرے کے اندر گئیں جہاں ایک خاتون افسر نے ان کی تلاشی لی۔  ائیر پورٹ کے سی سی مسز سرینا عیسی کی جسمانی تلاشی کی ٹی وی کیمروں سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔کوئی استثنا نہ تو مانگی گئی نہ دی گئی۔

4۔ جسٹس عیسیٰ کو ائیرپورٹ پر وی آئی پی لاؤنج کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کیا۔

5۔  جسٹس عیسیٰ نے ائیر پورٹ پر لگژری لیموزین پر جہاز تک جانے پر انکار کیا  جو وی آئی پی حضرات کو عین جہاز تک پہنچاتی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے لکھے گئے خط کے جواب میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیکرٹری سیف انجم اور میجر جنرل آصف جاہ شاد کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اس خط سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ججوں کی بیویوں کے لئے کوئی استثنیٰ مانگا ہی نہیں تھا، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جس استثنا کا خط نہ صرف جاری کیا بلکہ اس کی میڈیا میں تشہیر بھی کی گئی وہ استثنا جسٹس فائز کی بیوی محترمہ سرینا عیسیٰ نے استعمال ہی نہیں کیا۔

ڈی جی اے ایس ایف کا  جو حکمنامہ میڈیا پر چل رہا ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ رجسٹرا سپریم کورٹ نے سیکرٹری ایوی ایشن کو خط لکھ کر تضاد کی نشاندہی کی تھی کی سابق ججز اور بیگمات کو ائیر پورٹ پر جسمانی تلاشی سے استثنی حاصل ہے جبکہ حاضر سروس ججز کی بیگمات کی تلاشی لی جاتی ہے اس پس منظر میں رجسٹرا نے خط لکھا جس کی وضاحت کی بجائے ڈی جی اے ایس ایف نے حاضر سروس ججز کی بیگمات کو استثنی دینے کا ایک مبہم خط جاری کر دیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.