میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ، طلبا اور ا ہلخانہ کیلئے پریشانی کا باعث

کراچی  پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹیوشن فیس میں ایک دم اتنا اضافہ میڈیکل طلباءاور ان کے خاندانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، کیونکہ یہ عوام کی معیاری طبی تعلیم تک رسائی کو نمایاں طور پر محدود کرتا ہے۔

پی پی آئی کے مطابقپی ایم اے کے اعزازی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورونے کہا کہ طبی تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت طویل مدت میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ زیادہ ٹیوشن فیس کی وجہ سے صرف امیر پس منظر رکھنے والے طلباءہی طب میں اپنا کیریئر بنا سکیں گے۔ یہ صحت کی دیکھ بھال کے موجودہ نظام کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر پسماندہ علاقوں اور پسماندہ کمیونٹیز میں۔

مالی رکاوٹیں میڈیکل گریجویٹس کو ایسی خصوصیات کی حامل طبی تعلیم کے حصول سے بھی روک سکتی ہیں جو ملک کی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات، جیسے پرائمری ہیلتھ کئیر کیلئے ناگزیر ہے ۔پی ایم اے طبی اداروں کے مالی استحکام کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد کی تربیت کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔

تاہم، یہ مستحق طلباءکو ان کے خوابوں کی تعبیراور معاشرے کی بھلائی میں حصہ ڈالنے کے مواقع سے محروم کرنے کی قیمت پر نہیں کیا جانا چاہئے۔پی ایم اے حکومت سے ٹیوشن فیس میں اضافے پر غور کرنے اور اس کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ سستی طبی تعلیم کو فروغ دینے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیتی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے لیے مناسب فنڈنگ کے اجراءکو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ تمام پاکستانیوں کے فائدے کے لیے ایک پائیدار اور جامع صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.