عدالتی نظام اور مظلوم عوام

0
تحریر:  محمد رمضان اچکزئی
صوبائی صدر آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز(بلوچستان)
ایڈریس:خورشید لیبر ہال، کیقباد روڈ ملتانی محلہ، کوئٹہ۔  فون:081-2832176   موبائل:03003856666
ای میل:ramzanachakzai59@gmail.com
حضور پاک ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس قاضی نے عدل کیا وہ جنت میں مقام پائے گا اور جس قاضی نے جانتے ہوئے فیصلہ بے انصافی پر دیا وہ دوزخ میں جائے گا اورایسا قاضی جس کو معلوم نہ ہو کہ اس کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہے یانہیں یعنی وہ فیصلہ کرنے کا اہل نہ ہو وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔اسی طرح حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ کفر کا معاشرہ توقائم رہ سکتا ہے لیکن ناانصافی پر معاشرے قائم نہیں رہ سکتے۔
برطانیہ کے ایک سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے دوران جنگ معلوم کیا کہ ہمارے ملک میں انصاف ہورہا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں تو اس نے کہا کہ پھر ہمارا معاشرہ قائم رہے گا۔1973ء کا آئین اسلام کے اصولوں کے مطابق بنا ہے بلکہ اس آئین کے اندر گارنٹی دی گئی ہے کہ کوئی بھی قانون اسلام کے خلاف نہیں بن سکتا۔اس آئین میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ تین ستون موجود ہیں جس میں مقننہ قانون سازی، انتظامیہ قانون سازی پر عملدرآمد کرانے اور عدلیہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے اور آئین کی تشریح کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔اب عدلیہ سے متعلق عوام میں خدشات موجود ہیں کہ عدلیہ کا ڈھانچہ اوراس میں آنے والے ججز میرٹ پر نہیں آتے جس طرح کہ فوج کے محکمے میں سپاہی سے صوبیدارمیجر تک اورلیفٹیننٹ سے چیف آف آرمی اسٹاف تک فوجی افسروں کی بھرتی کا میرٹ اور ان کی ٹریننگ کا طریقہ کار قائم ہے، اسی طرح سول سروسز میں فیڈرل سروس کمیشن اورصوبوں میں پراونشل سروس کمیشن سرکاری افسروں کے ٹیسٹ اور انٹرویو کیلئے معیار رکھتے ہیں اورانتہائی سخت معیارات کے بعد افسران کی تعیناتیاں ہوتی ہیں
اس کے علاوہ پاورسیکٹر میں ایک کھمبے پر کام کرنے والے اسسٹنٹ لائن مین کو بھی ٹیسٹ، قد،چھاتی، دوڑ،اس کی اسکلز اور انٹرویو کے بعد رکھنے کا معیار مقرر ہے لیکن جوڈیشری میں نچلی سطح پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی تعیناتی کی جاتی ہے جس کے بعد وہ سول جج ترقی پاتے ہیں اوراس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن جج بن جاتے ہیں شازونادر کوئی ایک دو جج ہائی کورٹ کے جج بنتے ہیں جبکہ ایڈیشنل سیشن جج اور سیشن جج بھی براہ راست تعینات کیے جاتے ہیں اور ان تعیناتیوں پر بھی ماضی میں سوالات اٹھائے گئے کہ وہ اعلیٰ ججوں اور بڑے بڑے وکیلوں کے رشتہ دار اور ان کی فیملیز میں سے لیے جاتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی تو صوبائی چیف جسٹس اورپونی جج کی سفارش کے تحت جوڈیشل کمیشن کونام بھیجے جاتے ہیں ان میں بھی چیمبر بیس وکیل اور ججوں کے ساتھ کام کرنے والے ان کے جونیئر وکیل جج کیلئے نامزد ہوجاتے ہیں جو بعد ازاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس بلانے پر ججز کی سفارش پارلیمانی کمیٹی کو کی جاتی ہے اوربعد ازاں پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر جج تعینات ہوتے ہیں۔اگر چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کا اجلاس نہ بلائے تو جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی اکثریت بھی جوڈیشل کمیشن کا اجلاس نہیں بلاسکتی اسی طرح کسی جج کا محاسبہ کرنے کیلئے جوڈیشل کونسل کااجلاس بھی چیف جسٹس کے بلانے پر ہوسکتا ہے اور اگر وہ اجلاس نہ بلائے تو کسی جج کا محاسبہ نہیں کیا جاسکتا۔اب اس پورے عدالتی نظام میں جہاں سب سے پہلی شرط ججز کی میرٹ پر تعیناتی ہے اوراسلام کے زری اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امام ابو حنیفہ نے قاضی بننے کے بجائے موت کو گلے لگایا لیکن یہاں جج بننے کیلئے دنیا جہان کے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔راقم الحروف کے مطابق براہ راست ججوں کی تقرری کے بجائے نچلی سطح پر جوڈیشل مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی تک ایک شفاف میکنزم ہونا چاہیے اور جج کے فیصلوں کے مطابق ان کی ترقیوں کا انتظام ہونا چاہیے اورجس جج کے جتنے فیصلے اوپر سطح پر بدل دیے جائیں اتنے ہی ان کے نمبر کٹنے چاہیں اوران کی ترقی کو مدنظر نہیں رکھنا چاہیے۔اس وقت ملک میں سیاسی و معاشی بحران ہے عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں اورسپریم کورٹ کے چیف جسٹس15 ججزکی فل کورٹ میٹنگ بلانے میں ہچکچارہے ہیں اوراس وقت خاص ججز کے فیصلوں نے ملک کی عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ہٹایا گیا تو وکلاء کی ایک عظیم تحریک جس میں سول سوسائٹی، سیاسی پارٹیاں بھی شامل تھیں ان کی اجتماعی طاقت سے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے پر دو مرتبہ بحال کرایا۔اس وقت وکلاء تحریک کے سرخیل بیرسٹر اعتزاز حسن چوہدری کانفرنسز اور جلسوں میں عدلیہ سے متعلق نظمیں اور شاعری کرتے ہوئے کہتے تھے کہ جب عدلیہ آزاد ہوگی تو ریاست ہوگی ماں کے جیسی لیکن 24کروڑعوام نے بعدازاں دیکھا کہ ریاست اعتزاز حسن چوہدری کی ماں کے جیسی تو ہوگئی لیکن 52 سینٹی گریڈ گرمی میں عدلیہ کی آزادی کیلئے نعرے لگانے والے مزدور آج بھی اپنے آئینی، انسانی بنیادی حقوق کیلئے سالہا سال سے عدالتوں میں جاکر فیصلوں کے انتظار میں ہیں۔عدالت عالیہ بلوچستان کی ایک خاتون جج نے 62 یونینوں سے متعلق فیصلہ کیا کہ سول سرونٹ یونین نہیں بنا سکتے لیکن صوبائی حکومت نے62 یونینوں میں سول سرونٹ اور ورکرز کی تمیز کیے بغیر 62 یونینز کو ڈی رجسٹرڈ کردیا۔محترمہ خاتون چیف جسٹس صاحبہ قرآن مجید میں اللہ کے احکامات کے مطابق آدھی گواہی دینے اور وراثت میں آدھا حصہ لینے کی حقدار تھیں لیکن جب انہیں عدالت کا پورا جج بنایا گیا تو انہوں نے ہزاروں مزدوروں کووہ فیصلہ تھما دیا جسے کئی سال سے بلوچستان کے مزدور متاثر ہوکر سپریم کورٹ میں اپنے فیصلے کے انتظار میں رُل رہے ہیں۔گزشتہ دنوں یونان کے ساحل کے قریب کشتی میں سینکڑوں لوگ ڈوب گئے جس میں آج تک 80پاکستانیمزدور بھی شہید ہوچکے اور کئی لاپتہ ہیں جو نوجوان تھے اور مزدوری کی تلاش میں اپنے ملک کو چھوڑ کر دیار غیر میں جاکر مزدوری کرکے وہاں سے زرمبادلہ اپنے ملک بھیجنے اوراپنے خاندانوں کے کفیل بننا چاہتے تھے لیکن آج سپریم کورٹ آف پاکستان ابھی تک 184/3 کے تحت از خود نوٹس نہیں لے رہی کہ وہ حکومت سے پوچھے کہ یہ لوگ سالہا سال سے کیسے انسانی سمگلروں کے ہاتھوں چڑھ کر مررہے ہیں اور آئین ان کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لیکن سپریم کورٹ عتیقہ اوڈھو کے ایک بوتل شراب کا از خود نوٹس تو لیتی ہے، نسلہ ٹاور کراچی کا نوٹس لے کر عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے بنائے گئے فلیٹوں کو گراکر انہیں بے گھر تو کردیتے ہے لیکن مظلوم عوام کی سنوائی اور انہیں انصاف دینا عدالتی اورحکومتی ترجیحات میں نہیں ہے۔اب گزشتہ جمعہ کو چیئرمین سینیٹ، سینیٹ کے ممبران اور دیگر کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا لیکن عدالت اور حکومت ملک کے 24 کروڑ عوام کو روٹی،کپڑا اور مکان دینے کے فیصلے کرنے میں ناکام ہے۔ سپریم کورٹ میں 50ہزارسے زیادہ کیسز پڑے ہیں اورلاکھوں کیسز ماتحت عدالتوں میں ہیں لیکن عوام کی نسل در نسل ان کیسوں کی پیروی کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن فیصلوں کا بروقت نہ ہونا ہمارے عدالتی نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آج ملک میں بدامنی، افراء تفری، سیاسی و معاشی ابترحالات اورسانحہ 09 مئی میں جس طرح ایک سیاسی پارٹی نے ملک کی فوجی تنصیبات، اثاثہ جات اور شہیدوں کے مجسمے مسمار کیے اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ جب سیاسی پارٹی بھی دہشتگرد پارٹی بن جائے تو اسے روکنا حکومت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے لیکن اتنی بڑی دہشتگردی کے باوجود فیئر ٹرائل کے نام پر خاص لوگوں کو خاص طریقے سے ٹریٹ کیا جارہا ہے۔راقم الحروف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججز کی بحالی کے دوران جی پی او چوک پر ایک مظاہرے میں عدلیہ کی بحالی کیلئے تقریر کررہا تھا جس کے بعد راقم الحروف پر غداری کا مقدمہ درج ہوا عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ نے اس ایف آئی آر کو کواش نہیں کیا اور بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے مقدمے سے بری کیا۔آج ملک کے 24کروڑعوام بالخصوص مزدور طبقہ بہتر گورننس اور عدالتوں کے ذریعے مظلوموں کوانصاف کی طرف دیکھ رہا ہے اور ملک میں ایسے حالات پیداہورہے ہیں کہ اگر عدالتوں نے اپنی اندرونی لڑائیاں ختم نہیں کیں، مزدوروں اورمظلوموں کو انصاف فراہم نہیں کیا، ہر قسم کی دہشتگردی سے متعلق فیصلے نہیں کیے تو ملک میں مزید انارکی پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے آئین اور قانون کی حکمرانی، عدالت اورحکومت کے جمہوری طور پر مزید چلنے میں مشکلات ہوں گی جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.