چیف جسٹس فل کورٹ بنا دیں تو قوم یہ فیصلہ مانے گی، وزیراعظم

0

اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے بائیکاٹ کا لفظ استعمال نہیں کیا، چیف جسٹس فل کورٹ بنا دیں تو قوم یہ فیصلہ مانے گی۔قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن التوا کیس سے

متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ بینچ پرعدم اعتماد کا کہا گیا، سپریم کورٹ کے بائیکاٹ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تھا، وزیرقانون نے ایوان میں جو باتیں کیں وہ سو فیصد حقائق پرمبنی ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ اہم معاملے کو تین ججز کے بنچ کی جانب سے فیصلہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اسمبلی میں کئی لوگ جیلیں کاٹ کر وہاں تقاریر کرتے ہیں، مخلوط حکومت نے موجودہ بنچ پرعدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، عمران نیازی نے دو مرتبہ جیل بھجوایا، وہ تیسری بار بھی مجھے جیل بھیجنا چاہتا تھا۔اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ ملک کو مشکل حالات سے نکالا، حالات گھمبییر ہیں، لیکن نیت صاف ہے، میرا ایمان ہے کہ وقت آئے گا، حالات بہترہوں گے حالات بدل جائیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں، اس کے باوجود 10 کروڑغریب خاندانوں کو مفت آٹا فراہم کرنے کا آغازکیا، پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں مفت آٹا فراہم کررہے ہیں۔وزیراعظم نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط مان لی گئی ہیں، آئی ایم ایف کی آخری شرائط پربات چیت جاری ہے، برادر ممالک پاکستان کی بڑی مدد کر رہے ہیں، گزشتہ حکومت کے آئی ایم ایف پروگرام سے مہنگائی کی لہریں آرہی ہیں۔
عمران خان نے پاکستان کو معاشی دلدل میں پھنسا دیا، سابق حکمرانوں نے دوست ممالک کے خلاف بدزبانی کی، چین کے منصوبوں پر سنگین الزامات لگائے گئے.شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کو مشکلات میں مبتلا کیا، اور پاکستان کی ساکھ داؤ پر لگا دی، اس کے دور میں ججوں کو دھمکیاں ملیں، ریفرنس دائر ہوئے، اب اسرائیل کے ساتھ تجارت شروع کرنے کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے جو قابل مذمت ہے، فلسطینیوں کو حق ملنے تک پاکستان اپنے اصولی موقف پر کاربند رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ریاست بچانے کے لئے سیاست قربان کر دی، پاکستان بچ گیا تو سب خیر ہے، پاکستان کو ضعف پہنچے تو ہم سب نقصان میں ہیں، معاشی بہتری کے لئے سیاسی استحکام لازم ہے، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے والے کو عدالت سے دن رات ریلیف مل رہا ہے، پاکستان آج حقیقت میں تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گزر رہا ہے، سب کو مل کر فسطائیت کا مقابلہ کرنا ہوگا، آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.