طارق انیس کو دھول چٹانے والی مہناز اکبر ایک بار پھر شکر گڑھ کے الیکشن کے اکھاڑے میں اتر آئیں

نارووال کے حلقہ  این اے  77  میں اگست  2018  کےکٹھن الیکشن میں  106,366 ووٹ لے کر  طارق انیس کو  دھول چٹانے والی انتھروپولوجسٹ سیاستدان مہناز اکبر عزیز ایک بار پھر الیکشن کے کارزار میں اتر آئی ہیں۔ اس مرتبہ وہ  شکر گڑھ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ووٹ مانگیں گی۔

مہناز اکبر عزیز  کہنہ مشق  پاکستانی سیاست دان دانیال عزیز کی بیگم  ہیں۔ وہ اپنے شوہر دانیال عزیز کو سپریم کورٹ کے ایک متنازعہ حکم کے نتیجہ میں سیاست سے پانچ سال کے لئے بے دخل کئے جانے کے بعد سیاست کے کارزار میں آئی تھیں اور  ایک مشکل الیکشن جیت کر اگست 2018 سے اگست 2023 تک پاکستان کی قومی اسمبلی کی رکن رہی تھیں۔
مہناز  اکبر عزیز اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے بشریات  (انتھروپولوجی)میں ایم ایس سی کی اور اس کے بعد بیرون ملک  یونیورسٹی آف سسیکس سے جینڈر  اور ترقی کے علوم میں ایک اور ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔

پارلیمنٹ کی رکن کی حیثیت سے مہناز اکبر نے نہ صرف خواتین کے پارلیمانی گروپ کی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عمومی قانون سازی کے امور میں بھی میں بھی پیش پیش رہیں۔ مہناز اکبر عزیز باقاعدہ سیاست کرنے سے پہلے بھی اپنے شوہر دانیال عزیز کی اہم مشیر تھیں اور گزشتہ پانچ سال سے وہ سیاست کو سنجیدگی سے اپنائے ہوئے ہیں۔

مہناز اکبر عزیز  نے اور ان کے شوہر، دانیال عزیز نے 2024 کے انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کہ بنیادی وجہ پارٹی پالیسیوں پر ان دونوں کے مسلم لیگ نون کی قیادت اور مقامی سیاست میں احسن اقبال کے ساتھ اختلافات ہیں جو اب تقریباً ڈیڈ اینڈ پر آ چکے ہیں۔ ان کے شوہر دانیال عزیز نے مسلم لیگ نون کی انتخابی ٹکٹ کے لئے درخواست نہین دی تھی۔ نہ ہی پارٹی کی قیادت نے ان کی شکایات دور کرنے پر توجہ دی۔

  مہناز اکبر عزیز نے جس نشست پر کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں وہاں ان کا سامنا کرنے کے لئے مسلم لیگ نون نے احسن اقبال کے کزن کو ٹکٹ دے کر بھیجا ہے۔ شکر گڑھ کے اس علاقہ میں دانیال عزیز اور ان کے والد انور عزیز مرحوم کا گہرا اثر ہے اور لاتعداد لوگ ان کے ساتھ طویل عرصہ سے سیاسی رفاقت میں رہے ہیں۔

دانیال عزیز خود شکر گڑھ کے حلقہ این اے 42 سے امیدوار ہیں جہاں مسلم لیگ نون نے انوار الحق چودھری کو ٹکٹ جاری کیا ہے جبکہ صوبائی حلقہ پی پی 55 سے   ن لیگ نے پرانے کارکنوں حافظ شبیر اور مولانا غیاث الدین کی بجائے پی ٹی آئی چھوڑ کر آنے والے  اکمل سرگالہ کو ٹکٹ جاری کیا ہے  جو کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن بھی ہیں۔ ٹکٹوں کی اس ناپسندیدہ  تقسیم  پر  نون لیگی کارکن  اپنی قیادت سے نالاں ہیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.