چمن بارڈر پر پھنسی گاڑیوں کو 2 سے 3 روز میں نکال دیا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ  نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا ہے کہ چمن بارڈر پر پھنسے ہوئے ٹینکرز اور ٹرکوں کو 2,3 روز میں نکال دیا جائے گا حکومت کو ٹرانسپورٹروں کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر شمس شاہوانی ، میر نواب مینگل، میر حاجی انور لہڑی، یونس بڑیچ ، میر عدنان لہڑی، میر حاجی انور لہڑی، یونس بڑیچ سے ملنے والے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ نگران وزیر اعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ کی واضح احکامات پر چمن بارڈر پر پھنسے ہوئے ہزاروں مال بردار ٹرکوں کو نکالنے کے لئے متعلقہ حکام اور ٹرانسپورٹروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ان کی کوشش ہے کہ تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیاجائے کیونکہ ٹرانسپورٹروں اور ان گاڑیوں کو چلانے والے ڈرائیورز اور دیگر عملے کی مالی مشکلات سے بھی آگاہ ہیں۔

آل پاکستان ٹینکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر شمس شاہوانی نے کہا کہ گزشتہ 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تقریباً 5 ہزار کے قریب مال بردار کنٹینرز ٹرک ،مزدا، ٹینکرز پرلت دھرنے کی وجہ سے پاک افغان بارڈر پر واقع سرحدی شہر چمن میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں اور ان گاڑیوں کو چلانے والے ڈرائیورز اور دیگر عملے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ان کے روزگار کا واحد ذریعہ یہ گاڑیاں ہے وہ دو ماہ سے رکی ہوئی ہے ہم نے متعدد بار متعلقہ حکام سے ان گاڑیوں کو نکالنے کے لئے رابطے کئے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی میڈیا کے ذریعے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائی پھر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا

گزشتہ روز باامر مجبوری ہم نے تنگ ہوکر بلوچستان میں بین الاقوامی اور بین الصوبائی شاہراہیں بلاک کرکے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائی اور آج نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی سے ملاقات کی ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دو، تین روز میں بارڈر پر پھنسی ہوئی تمام مال بردار گاڑیوں کو نکالیں گے اس حوالے سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سمیت تمام متعلقہ حکام ہمارے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ہم پر امید ہے کہ یہ مسئلہ بہت جلد حل ہوجائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بھر پور تعاون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.