لازمی نہیں ہر کوئی عدالتی فیصلے سے اتفاق کرے لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے: چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے لازمی نہیں کہ ہر شہری عدالت کے فیصلے سے اتفاق کرے لیکن نظر آنا چاہیے کہ انصاف ہو رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ای کیمپس کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی مضبوط بورڈ کے تحت کام کر رہی ہے، اکیڈمی کی کامیابی میں ہم سب کی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا ملک بھر میں 3200 ججز فرائض انجام دے رہے ہیں، اکیڈمی میں مختلف مراحل کے تحت تربیت فراہم کی جا رہی ہے، ججز اپنے تجربات اور آئیڈیاز ایکدوسرے سے شئیر کر سکتے ہیں، جوڈیشل اکیڈمی مختلف صوبوں اور علاقے کے ججز کو اکھٹا کرنےکا ذریعہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا جوڈیشل اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر اطمینان محسوس کر رہا ہوں، کیسز کی براہ راست سماعت سے دیکھنے والوں کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے، سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت لائیو ہوئی، خوشی ہے سپریم کورٹ میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، ہمیں ماحول ، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے آگاہ ہونا چاہیے، اگر ماحول کو نہیں بچائیں گے تو ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے طالبعلم براہ راست سماعت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لوگوں میں براہ راست سماعت کے ذریعے یہ اعتماد بڑھتا ہےکہ انصاف ہو رہا ہے، عوامی اہمیت کے کیسز سپریم کورٹ سے براہ راست نشر ہوئے، یہ عمل انصاف کے نظام میں مزید شفافیت لائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا سول ججز تربیت یافتہ ہوں گے تو اعلیٰ عدالتوں پر دباؤ کم ہو گا، درخواست گزاروں کا پہلا واسطہ سول ججز سے پڑتا ہے، کیسز کی سماعت کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وسائل کی بچت ممکن ہے، غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی روکنے کے لیے ایسا کرنا ہو گا کہ سب کی جانب ایک جیسا معیار ہو، اس سے لوگ تنازعات کے بارے میں بھی معلومات جان سکتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف رکھنا ہر شہری کا حق ہے، لازمی نہیں کہ شہری اتفاق کرے لیکن عدالتی فیصلوں میں نظر آئے کہ انصاف ہو رہا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.